April 13, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/bodyfitnessinfo.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
صوبیدار صاحب احتیاط…

رمضان المبارک کی مبارکباد دو دن کی تاخیر سے قبول فرمائیے۔ مبارکباد دراصل دعا ہے اور یہ ایسی دعا ہے جو پاکستان میں بالعموم قبولیت کے آثار سے دور دور ہی رہتی ہے۔ رمضان المبارک ہی کو لے لیجئے، دنیا بھر میں اس مہینے کا احترام کیا جاتا ہے۔ اشیاء کی قیمتیں غیر مسلم دکاندار بھی کم کر دیتے ہیں۔ مسلمان ممالک میں برائیوں اور گناہوں کی شرح کم ہو جاتی ہے لیکن پاکستان میں ماجرا بالکل الٹ ہو جاتا ہے۔ یہاں استقبال رمضان اشیاء کی قیمتیں رمضان کا چاند نظر آنے سے پہلے ہی بڑھا کر کیا جاتا ہے۔ سب سے زیادہ ذخیرہ اندوزی اسی مہینے ہوتی ہے۔ رشوت کے نرخ بھی حسب توفیق و عہدہ بڑھا دئیے جاتے ہیں۔ دفاتر میں کام چوری کی شرح ایک دم ترقی کر جاتی ہے۔ معاشرتی جرائم کی رفتار کو پر لگ جاتے ہیں۔ اغوا برائے تاوان میں اغوا کی گنتی اور تاوان کی رقم، دونوں اضافہ پذیر ہو جاتی ہیں۔ عورتوں پر تشدد، ان کے چہرے پر تیزاب پھینکنے ، انہیں زندہ جلانے یا کلہاڑوں کے حوالے کرنے کے واقعات سب سے زیادہ اسی مہینے پیش آتے ہیں، کاروکاری کا فریضہ بھی اسی مہینے زیادہ دلجمعی کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے۔ خطیب حضرات فرقہ وارانہ منافرت کے فروغ کیلئے اسی مہینے کو زیادہ ’’بابرکت‘‘ تصور کرتے ہیں۔ ٹی وی چینلز رمضان کی خصوصی نشریات کے نام پر ’’تفریحی‘‘ پروگرام نشر کرتے ہیں اور عوام کو راغب کرتے ہیں کہ یہ اور یہ ’’اشیائے تعیش‘‘ آپ نے نہ خریدیں تو پھر کہاں کی سحری، کیسی افطاری، آپ کا تو گویا روزہ ہی نہیں ہوا۔ ’’روحانی‘‘ شخصیات پر توہم پرستی اور بابوں کی دستگیری کے واقعات سب سے زیادہ اسی مہینے بیان کر کے ثواب دارین کماتے ہیں__ اور بھی بہت کچھ ہوتا ہے۔ بہرحال، دو دن کی تاخیر مبارکباد دینے میں ہو گئی، معذرت اور مبارک دونوں قبول فرمائیے۔ 
_____
پاکستان ان ممالک میں شامل ہے (اور ان ممالک کی گنتی ایک ہاتھ کی انگلیوں پر آ جاتی ہے) جہاں نہ صرف چائلڈ لیبر کو عملاً ریاستی تحفظ حاصل ہے بلکہ دن بدن اس میں فروغ ہو رہا ہے۔ کم عمر بچے اور بچیاں ایلیٹ گھرانوں میں، جو دن کے ایک وقت کے کھانے پر بیس بیس ہزار روپے خرچ کر دیتے ہیں، چند ہزار (آٹھ ہزار زیادہ سے زیادہ) کی تنخواہ پر 24 گھنٹے کام کرتی ہیں اور کام کرنے کے علاوہ رات دن مار کھانے کی ڈیوٹی بلامعاوضہ انجام دیتی ہیں۔ گزشتہ ہفتے ایسے تین بچے بچیوں کو قتل کر دیا گیا۔ 
سرگودھا میں بارہ سال کی بچی عائشہ کو تھپڑ ، گھونسے، ڈنڈے مار مار کر قتل کیا گیا اور اسے اتنا زیادہ مارا گیا کہ ننّھے سے لاشے کا حشر ہو گیا، شکل پہچان میں نہیں آ رہی تھی۔ قاتل زمیندار جواد بھٹی تھا جس نے بچی کو لوہے کے راڈوں سے مارا۔ تفتیش کے دوران پتہ چلا کہ جواد بھٹی دو ماہ سے بچی کو ہر روز کی بنیاد پر مارتا تھا۔ ذرا سی غلطی پر اسے طویل تشدد کا نشانہ بنایا جاتا۔ 
یہ ان تین وارداتوں میں سے ایک کا احوال ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس قتل کا نوٹس لیا اور قاتل میاں بیوی گرفتار ہو گئے۔ یہ اچھی بات ہے۔ ماضی میں قتل کے ایسے واقعات پر کم ہی نوٹس لیا جاتا رہا ہے۔ لیکن اس سے بھی آگے کی یہ بات ہے کہ کارروائی اگر ہوتی ہے تو قتل پر ہوتی ہے اور اس بات پر نہیں ہوتی کہ چائلڈ لیبر کے قانون پر کیوں عمل نہیں ہوا۔ پورے دھڑلے اور جرأت سے کارخانوں ، ورکشاپوں، ہوٹلوں اور دوسرے مقامات کے علاوہ گھریلو ملازمت کے نام پر اس قانون کو پائوں کی ٹھوکر پر لیا جا رہا ہے۔ حیرت ہے۔ حکومت پھر اس قانون کو ختم کیوں نہیں کر دیتی۔ 
ایسے واقعات گزشتہ چند برسوں میں سینکڑوں کے حساب سے ہوئے ہیں لیکن قاتل کو سزا ملنے کا تناسب نہ ہونے کے برابر ہے۔ عدالت جا کر یہ ملزم یا تو لمبی ضمانت لے لیتے ہیں یا پھر بری ہو جاتے ہیں۔ ایک سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ کیا کبھی پاکستان میں عدلیہ کا نظام بہتر ہو گا؟۔ پھر جواب بھی آ جاتا ہے کہ ایسی کوئی امید، فی الحال، دور دور تک نظر نہیں آتی۔ خود ججوں کے گھروں میں چائلڈ لیبر ہوتی ہے۔ 
عدلیہ کے نظام کی ایک اور جھلک دیکھئے۔ کراچی میں ایک انسان نما جانور نے تین کم عمر بچے پہلے تشدد کا نشانہ بنائے، جب وہ ادھ موئے ہو گئے تو گردن دبا کر تینوں کو قتل کر دیا۔ نمرہ، علی سمیت ان تینوں بچوں کی عمریں 12 سال، 3 سال اور 4 سال تھی اور تینوں سگے بہن بھائی تھے۔ ملزم گرفتار ہوا، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کراچی غربی نے قاتل حسنین کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ اگر یہ بچے، یا ایک بچہ جج موصوف کا ہوتا تو …؟۔ اور اس وکیل کے بارے میں کیا لکھا جائے جو ان معصوموں کے قاتل کو بچانے کیلئے ڈٹ گیا۔ قاتل کو شبہ تھا کہ بچے اس کے گھر میں چوری کرنے کیلئے داخل ہوئے تھے۔ 
یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ انصاف اور شفافیت کے سوال پر پاکستانی عدلیہ دنیا بھر کی عدلیہ کی فہرست میں سب سے آخری نمبروں پر ہے۔ 
_____
حکومت نے اڈیالہ جیل میں قیدیوں سے ملاقاتوں پر پندرہ دن کیلئے پابندی لگا دی ہے۔ سب سے زیادہ متاثر اس پابندی کے نتیجے میں وہ صاحب ہوں گے جو جیل کے اندر بیٹھ کر ’’حقیقی آزادی‘‘ کی جنگ کی کمان کر رہے تھے۔ حقیقی آزادی کی جنگ جو پہلے ہی ٹھنڈی پڑتی جا رہی تھی، مزید ٹھنڈی ہو جانے کا امکان ہے۔ موسم گرم ہو رہا ہے، سختی کا شکنجہ بھی گرم ہوتا جا رہا ہے۔ نجومی کہتے ہیں کہ یہ جنگ بالآخر ’’آہ سرد‘‘ بن کر رہ جائے گی۔ 
پابندی کے باوجود ایک صوبے کے صوبیدار اپنے کمانڈر انچیف سے ملاقات پر مصر ہیں۔ ایک میل لمبا پروٹوکول قافلے کے ہمراہ اڈیالہ پہنچنے پر مصر ہیں۔ صوبیدار صاحب کو احتیاط کرنی چاہیے، ایسا نہ ہو خود بھی کمانڈر انچیف کے ’’روم میٹ‘‘ بن جائیں۔ شکایات ان کے خلاف بہت ہیں۔ یہ بھی پتہ نہیں جیل میں بلیک لیبل اسلامی شہد کی بوتلیں دستیاب ہو سکیں گی یا نہیں۔ 
_____
پی ٹی آئی عرف سنی کونسل کے رہنماء اسد قیصر نے دو روز پہلے ’’وارننگ‘‘ دی تھی کہ محسن نقوی کو وزیر داخلہ لگایا گیا تو پھر مفاہمت بھول جائیں۔ 
حکومت کو شاید مفاہمت کی اتنی طلب نہیں تھی، اس نے محسن نقوی کو وزیر داخلہ لگا دیا اور انہوں نے حلف اٹھا لیا۔ اس پر پی ٹی آئی عرف سنی کونسل کا ردّعمل متوقع تھا اور وہ آ گیا۔ ردّعمل یہ ہے کہ ہم مفاہمت کیلئے تیار ہیں۔ یہ ردّعمل علی ظفر صاحب نے دیا ہے۔ پتہ نہیں، علی ظفر نے ردّعمل میں اسد قیصر کی ’’ان پٹ‘‘ معلوم کی کہ نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *