April 13, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/bodyfitnessinfo.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Members of the Special Operations Team of the Cypriot National Guard and U.S. Navy SEALs participate in a joint military training in Limassol, Cyprus, September 10, 2021. REUTERS/Yiannis Kourtoglou

ایک بغیر نامی جہاز میں ایرانی ساختہ اسلحہ لے جانے کی کوشش میں پکڑے جانے والے عملے کے ارکان کو امریکہ کی وفاقی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ منگل کو عدالت میں پیش کیے گئے ان افراد کی تعداد چار ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان کی ضمانت کا امکان نہیں ہے۔

بحری جہاز کے عملے کے ان چاروں ارکان کو 11 جنوری کی رات امریکی سنٹرل کمانڈ کی بحریہ نے حراست میں لیا تھا۔ یہ گرفتار بحیرہ عرب میں ہوئی۔ جہاں سے انہیں امریکہ لایا گیا اب ورجینیا کی ایک عدالت میں ان کے خلاف مقدمہ شروع ہونے جا رہا ہے۔

اس آپریشن کے دوران امریکی بحریہ کے اہلکار سمندر میں ڈوب گئے۔ امریکی حکام کے مطابق دو اہلکار وں میں ایک وارفئیر آپریٹر کرسٹوفر تھے جو جہاز اور بحری دستے کے درمیان اونچی لہروں کے پیدا ہونے کی وجہ سے ڈوب گئے۔ اس اہلکار کے ڈوبتے ہی دوسرے وار فئیر آپریٹر ناتھن گیج انگرام نے چھلانگ لگا دی کہ اپنے ساتھی کو بچا سکے مگر انہیں بھی دوبنے سے نہ بچایا جا سکا ۔

امریکی ایف بی آئی کے ایجنٹ کے مطابق بحریہ کی کارروائی کے دوران پکڑے گئے جہاز میں ایرانی اسلحہ لانے والے جہاز کی تلاشی لی گئی تو اس میں ایران کے بنے ہوئے ہتھیار تھے، جن میں درمیانی رینج کے بیلسٹک میزائل اور جہاز شکن کروز میزائلوں کے اہم پارٹس لدے ہوئے تھے۔

ایف بی آئی کی رپورٹ کے مطابق ہتھیاروں کی نوعیت عام طور پر حوثیوں کے زیر استعمال رہنے والے ہتھیاروں والی تھی۔ جنہیں حوثی آج کل بحیرہ احمر وغیرہ میں جہازوں پر حملوں میں استعمال کرتے ہیں۔

مگر اہم بات یہ کہ عملے کے چار ارکان پاکستانی پاسپورت رکھتے تھے۔ جنہیں گرفتار کر لیا گیا۔ ان گرفتار کیے گئے عملے کے ارکان کے نام محمد پہلوان، محمد مظہر، عمران اللہ اور اظہار محمد بتائے گئے ہیں۔ ان پر یہ الزام بھی عاید کیا گیا ہے کہ انہوں نے امریکی بحریہ کو غلط معلومات دینے کی کوشش کی۔

بتایا گیا ہے کہ ایرانی اسلحہ لے کر آنے والے جہاز کے عملے کے مزید دس ارکان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے مگر ان کو بطور گواہ پیش کیا جائے گا اور ان کے جرم کی نوعیت ان چار افراد والی نہیں ہو گی۔

ایف بی آئی کے مطابق عملے کے ارکان ایک سیٹلائٹ فون کے ذریعے امریکی پاسدارن کی فوج کے ایک ذمہ دار سے رابطے میں تھے اور اس سے ہدایات لے رہے تھے یا اسے اس سارے واقعے کے بارے میں بتا رہے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *