April 18, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/bodyfitnessinfo.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

گذشتہ چند دنوں کے دوران ایرانی حکام کی جانب سے ووٹروں کو کل جمعہ کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی ترغیب دینے کی مسلسل اپیلوں کے باوجود نتیجہ بہ ظاہر تسلی بخش نہیں تھا۔

سیاسی حکام کے حسابات شہریوں کی رائے سے میل نہیں کھاتے کیونکہ ابتدائی تخمینوں کے مطابق کم ووٹنگ کے باوجود زیادہ ٹرن آؤٹ کے دعوے کیے گئے تھے۔

رائے دہندگان کے مطابق پولنگ بند ہونے کے فوراً بعد متعدد عہدیداروں نے نشاندہی کی کہ ملک بھر میں شرکت کی شرح ریکارڈ کم تھی جو 40.6 فیصد تک پہنچ گئی۔یہ ٹرن آؤٹ 1979ء میں اسلامی انقلاب کے بعد سب سے کم شرکت ٹرن آؤٹ ہے۔

پولنگ کا وقت بڑھانے کے باوجود

پولنگ کے دس گھنٹے بعد رائے دھندگان کا تناسب صرف 27 فیصد تھا جب کہ تہران میں یہ شرح آٹھ گھنٹے کے بعد 12 فیصد تک پہنچ گئی۔ لوگوں کو مزید ووٹ ڈالنے کی ترغیب دینے کے لیے پولنگ کا وقت مزید دو گھنٹے بڑھایا گیا تھا۔

Untitled ۱

Untitled ۱

جبکہ بیلٹ بکس کھولنے میں مزید دو گھنٹے کی توسیع کے بعد شرکاء کی کل تعداد 24,861,542 تک پہنچ گئی۔

سرکاری توقعات کے مطابق ٹرن آؤٹ تقریباً 42.5 فیصد تک کا امکان ظاہر کیاگیا تھا جو کہ 2020 میں گذشتہ پارلیمانی انتخابات میں ریکارڈ کیا گیا سب سے کم ٹرن آؤٹ ہے۔

مہنگائی اور اعتدال پسند کی غیرموجودگی

ٹرن آؤٹ میں ریکارڈ کمی کے حوالے سے مبصرین اور رائے عامہ کے جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی وجہ بااثر اعتدال پسندوں اور اصلاح پسند لیڈروں کی دوڑ کی غیر موجودگی ہے۔

اس کے علاوہ عوام کی ووٹ ڈالنے میں عدم دلچسپی کی ایک وجہ کئی سال سے جاری مہنگائی کی لہرہے۔ مہنگائی کے بحران نے عوام کا حکمران طبقے پر اعتماد کھو دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *