April 19, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/bodyfitnessinfo.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
بحری احمر میں جنگی کشتیاں

امریکی محکمہ دفاع نے اطلاع دی ہے کہ یمن میں حوثیوں کی طرف سے داغے گئے ڈرون حملوں یا میزائلوں سے کوئی جنگی فوجی بحری جہاز متاثر نہیں ہوا۔ وزارت دفاع کے ترجمان میجر پیٹ نگوین نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ تقریباً 15 تجارتی جہاز متاثر ہوئے جن میں چار امریکی جہاز بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بحیرہ احمر میں روزانہ چار سے آٹھ اتحادی بحری جہاز آ رہے ہیں۔

حوثیوں کے رہنما عبد الملک الحوثی نے ایک روز قبل ایک تقریر میں کہا تھا کہ گروپ نے آپریشن کے آغاز سے اب تک 54 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کی کل تعداد 384 تھی۔

7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد سے خطے میں کئی محاذوں پر کشیدگی بڑھ چکی ہے۔ یہ کشیدگی بین الاقوامی طور پر سمندری تجارت کے اہم راستے تک بھی پھیل گئی ہے۔ برطانوی اور امریکی اندازوں کے مطابق 60 تک پہنچنے والے حوثیوں کے حملوں نے بین الاقوامی نیویگیشن کی حفاظت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ حوثیوں کے حملوں نے عالمی جہاز رانی کی ٹریفک میں خلل ڈالا اور عالمی افراط زر کا خدشہ پیدا کیا ہے۔

حوثی گروپ نے کئی کمپنیوں کو بحیرہ احمر کے راستے پر بحری جہازوں کو گزرنے سے روکنے پر مجبور کیا۔ اس کے بعد کمپنیوں کو افریقہ کے گرد طویل اور زیادہ مہنگے راستے کو اختیار کرنا پڑا۔ اس سے یہ خدشہ بھی بڑھ گیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان 5 ماہ سے جاری جنگ کے اثرات مشرق وسطیٰ کو غیر مستحکم کر دیں گے اور تنازع مزید پھیل جائے گا۔ امریکی اور برطانوی افواج نے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر گزشتہ ہفتوں کے دوران کئی مشترکہ حملے کیے اور مزید کارروائیوں کی دھمکی دی ہے۔ واشنگٹن نے حوثی گروپ کے رہنماؤں کو بھی نشانہ بنانے کا اشارہ دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *