April 13, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/bodyfitnessinfo.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Defendant Nikita Zhuravel, who was detained in May 2023 under a law against offending religious believers' feelings after he burned a copy of the Koran outside a mosque in Volgograd city, attends a court hearing in the Chechen capital of Grozny, Russia, February 27, 2024. REUTERS/Chingis Kondarov

مدعا علیہ نکیتا زوراویل، جسے مئی 2023 میں وولگوگراڈ شہر میں ایک مسجد کے باہر قرآن پاک کا نسخہ جلانے کے بعد مذہبی عقائد کو مجروح کرنے کے خلاف قانون کے تحت حراست میں لیا گیا تھا، 27 فروری کو روس کے چیچن دارالحکومت گروزنی میں عدالتی سماعت میں شرکت کر رہا ہے

چیچنیا کے دارالحکومت گروزنی میں ایک روسی شہری کو ساڑھے تین سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس شخص پر الزام تھا کہ اس نے قرآن پاک کو نذر آتش کیا تھا۔ بیس سالہ نیکٹا ظہوراول کو یکم مئی 2023 کو مذہبی عقائد پر یقین رکھنے والوں کے جذبات مجروح کرنے کے جرم میں حراست میں لیا گیا تھا۔

اس شخص نے ایک مسجد کے باہر قرآن پاک کو نذر اتش کر دیا تھا۔ یہ واقعہ گروزنی سے 800 کلو میٹر دور پیش آیا تھا۔ بعد ازاں روسی تفتیش کاروں نے اس کا مقدمہ چیچنیا میں منتقل کر دیا۔ یہ فیصلہ تفتیشی کمیٹی نے کیا تھا۔ تفتیشی کمیٹی سنگین نوعیت کے جرائم کو دیکھنے کی ذمہ دار سمجھی جاتی ہے۔

تفتیشی کمیٹی کے بقول یہ فیصلہ ان پیغامات اور مطالبات کی بنیاد پر کیا گیا تھا جو اسے چیچنیا سے بہت بڑی تعداد میں موصول ہوئے تھے کہ اس ملزم کے خلاف انہیں متاثرہ فریق بنایا جائے۔ واضح رہے چیچنیا میں مسلمانوں کی بہت بڑی آباد رہتی ہے۔

کریملن کے حامی لیڈر رمضان قدیروف اپنے آپ کو اسلامی عقیدے کے محافظ کے طور پر ہیش کرتے ہیں۔ ان کا تعلق بھی چیچنیا سے ہے۔ منگل کے روز گروزنی عدالت نے اسے جرم کا مرتکب قرار دیا ۔ اس نے اس سے پہلے کئی بار معافی مانگی تھی اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اسے اس جرم کی سنگینی اور اس کے نتائج کو اندازہ نہیں تھا۔ ۔

بتایا گیا ہے کہ ملزم کو قرآن پاک نذر آتش کرنے کے لیے یوکرینی انٹیلی جنس نے دیا تھا۔ روس میں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے خلاف قانون 2013 میں بنایا گیا تھا۔، اس قانون کے بناتے ہوئے کریملن نے سماجی اقدار کی طرف اپنے رجحان کا اظہار کیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *