April 18, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/bodyfitnessinfo.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
This photo provided by World Central Kitchen shows a crane unloading food packages over a makeshift port on the Gaza Strip, Saturday, March 16, 2024. Spanish NGO Open Arms has sent essential food to Gaza by a barge towed by a ship from Cyprus. The food was sent by World Central Kitchen, the charity founded by celebrity chef José Andrés, which operates kitchens providing free meals in Gaza. WCK said that it was offloading almost 200 tons of rice, flour and proteins on Saturday and that a second vessel is preparing to set sail from Cyprus with hundreds more tons of food. (World Central Kitchen via AP)

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن ایک جانب جنگ بندی کے لیے جاری نئے مذاکراتی مرحلے سے امید جوڑ رہے ہیں تو دوسری جانب امریکہ نے غزہ سے بحری رابطے اوربحری راستے سے رسائی کے لیے کوششیں تیز کر رکھی ہیں۔ اس نئی عارضی بندرگاہ کی تعمیر صدر جوبائیڈن نے یونین آف سٹیٹ خطاب میں اطلاع دی تھی۔

اب ایک سینئیر امریکی ذمہ دار نے جمعرات کو کہا ہے کہ یہ نئی عارضی بندرگاہ یکم مئی سے پہلے پہلے مکمل ہو سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کا غزہ میں تقریباً چھ ماہ سے جاری جنگ کے نتیجے میں 23 لاکھ فلسطینی قحط کی زد میں ہیں۔ غزہ کے کئی علاقوں میں قحط کی حالت شدید ترین ہے۔

امریکہ نے چھٹے ماہ کی جنگ کے دوران ایک طرف امریکہ نے بعض دوسرے ملکوں کی دیکھا دیکھی فضائیہ کے ذریعے خوراک گرانا شروع کر دی اور بحری راستے سے بھی کوششوں کا اعلان کر دیا ۔اگرچہ ماہرین اور اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے ان کی کوششوں کو زمینی راستے سے امداد کی ترسیل کا متبادل نہیں دیکھتے ہیں۔

امریکی فوج غزہ کے لیے نئی بندرگاہ کی تعمیر کی جلد سے جلد تعمیر کے لیے ہر ممکن کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کے چیف آف سٹاف کرٹس رائیڈ کے مطابق فوج کی ان کوششوں سے امکان ہے کہ یکم مئی سے پہلے ہی یہ بندر گاہ مکمل ہو جائے گی۔’ قبرص میں صحافیوں کی طرف سے پوچھے گئے اس سوال پر کہ امریکی فوج امدادی سرگرمیوں کے لیے کیسے کام کرے گی؟ ریڈ نے کہا ‘ امریکی اہلکاروں کا ساحل کی طرف جانے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ ‘

ان کے مطابق غزہ کے اندر کی سیکیورٹی اسرائیل ہی کرے گا اور ایک وسیع علاقے کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا، جب کہ امریکہ اسرائیل کو اس محفوظ علاقے میں ‘ سیکیورٹی پارٹنرز فراہم کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس سلسلے میں امریکہ کی کئی ملکوں کے ساتھ بات بھی چل رہی ہے۔ ‘

گویا امریکہ سمندر میں موجود رہ کر اسرائیلی فوج کی غیر مرئی مدد کرے گی۔ نیز یہ ان بحری راستوں سے امدادی سرگرمیوں کا منصوبہ طویل مدتی ہو سکتا ہے فوری یا ہنگامی ضرورت کے لیے نہیں۔ کیونکہ ابھی مستقل جنگ بندی پر اسرائیل راضی نہیں ہے، اس سلسلے میں امریکہ بھی اسرائیلی موقف کے ساتھ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *