April 19, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/bodyfitnessinfo.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

بھارت میں لوک سبھا کے انتخابات سے پہلے مسلم آبادی کی حامل سب سے بڑی ریاست میں مسلم عائلی قوانین کے سلسلے میں بڑا اقدام کرتے ہوئے مسلم شادی بیاہ کا قانون ختم کر دیا ہے۔ یہ قانون تقریباً نوے سال سے رائج تھا۔

بھارتی مسلمانوں نے اس بھارتی اقدام کو امتیازی قرار دیتے ہوئے اس پر احتجاج کیا ہے۔ واضح رہے آسام میں مسلم آبادی کا تناسب 34 فیصد ہے۔ اس ریاست کی طرف سے پہلے ہی کہہ دیا گیا تھا کہ شادی بیاہ کے یکساں قانون کا نفاذ چاہتی ہے۔

جو شادی بیاہ کے علاوہ طلاق اور وراثتی قوانین تک سب پر اثر پڑے گا۔ اس سے ایک ماہ قبل بھارتی ریاست اترکھنڈ نے یکساں عائلی قانون کو اپنے ہاں نافذ کرنے ک

اس سے قبل بھارت میں تمام بڑی اقوام ہندو ، مسلمان اور عیسائی اپنے اپنے عائلی قوانین کے مطابق زندگی بسر کرتے آئے ہیں۔ تاہم جب سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت آئی ہے، اس کی حکمت عملی یہ ہے کہ ہندوؤں کے علاوہ دیگر تمام قوام اور اقلیتوں کی شناخت کو ختم کر کے ہندو رواج اور شناخت کے تابع کر دیا جائے۔ اگرچہ سیکولر بھارت کی داعی کانگریس اور دوسری جماعتوں کی حکومتوں میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔

وزیراعظم نریندر مودی کی پارٹی ‘بی جے پی’ نے اپنے ووٹروں کی بڑی تعداد یعنی ہندوؤں سے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ بھارت میں عائلی زندگی اور شادی بیاہ کے قوانین کو بھی ایک ہی قالب میں ڈھالے گی اور اس سلسلے میں ہندو، مسلم، عیسائی کی کوئی شناخت باقی نہیں رہنے دی جائے گی۔ تاہم مسلمان ‘بی جے پی’ کی اس حکمت عملی کو قبول نہیں کرتے اور اس کی مخالفت کرتے ہیں۔

‘بی جے پی’ کے اسی وعدے کے تحت آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما نے ہفتہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا ‘ریاستی حکومت نے آسام میں مسلمانوں کے شادی اور طلاق سے متعلق قوانین مجریہ 1935 کو ختم کر دیا ہے۔ مسلمانوں کے عائلی قوانین کے تحت شادی بیاہ کی عمر ان کی شریعت طے کرتی تھی اور وہ اس سلسلے میں دیگر اقوام کے لیے بنے ہوئے قوانین کے پابند نہیں تھے۔ اب ایسا نہیں ہوسکے گا۔ اب ان کو ایک ہی عمر کی حد کی پیروی کرنی پڑے گی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘روئٹرز’ نے اتوار کے روز وزیراعلیٰ آسام سرما سے پوچھا کیا حکومت لوک سبھا کے الیکشن سے پہلے اس نئے قانون کو نافذ کرنا چاہتی ہے؟ اس پر وزیراعلیٰ نے کہا ‘نہیں کوئی جلدی نہیں ہے۔’

خیال رہے کہ آسام میں رہنے والے مسلمانوں کی اکثریت بنگالی النسل ہے اور ان کے آباء کا تعلق بنگال سے رہا ہے۔ لیکن وہ صدیوں سے اس علاقے میں مقیم ہیں۔ موجودہ بنگلہ دیش بھی آسام کے ساتھ نسلی و مذہبی کا قربت کا حامل ملک ہے۔ ریاست آسام میں اکثر ہندو مسلم فسادات کا خطرہ رہتا ہے۔ کیونکہ آسام کی بیشتر آبادی ہندوؤں پر مشتمل ہے۔

آسام سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی بدرالدین اجمل کا اس قانونی مداخلت پر کہنا ہے کہ ‘بی جے پی’ اور اس کے حامی عام انتخابات سے پہلے ملک میں ٹکراؤ کی کیفیت پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ ہندو ووٹوں کو اپنی طرف مائل کر سکیں۔ ان کا مقصد مسلمانوں کو مشتعل کرنا ہے مگر مسلمان ان کی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

بدر الدین اجمل جو کہ یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے سربراہ ہیں اور ان کی جماعت مسلمانوں کے حوالے سے اکثر بات کرتی رہتی ہے کہ ان کے مفادات کا تحفظ کر سکے کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘ریاستی قانون میں یہ تبدیلی بھارتیہ جنتا پارٹی ‘یونیفارم سول کوڈ’ کی طرف پہلا قدم ہے۔’

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *