April 18, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/bodyfitnessinfo.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

یورپی یونین، امریکہ، جاپان اور کینیڈا نے 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد

Britain's Prime Minister Rishi Sunak gives an interview, during a visit to an Openreach exchange in Anglesey, Wales, on Feb. 22, 2024. (Pool / AFP)

برطانوی وزیرِ اعظم رشی سونک نے کہا کہ مغربی ممالک کو روسی اثاثہ جات ضبط کرنے کے بارے میں مزید جرأت کا مظاہرہ کرنا چاہیے جو انہوں نے 2022 میں یوکرین پر ملک کے مکمل حملے کے بعد منجمد کر دیئے تھے۔

سونک نے سنڈے ٹائمز کے ابتدائی ایڈیشن میں تنازع کے آغاز کے دو سال مکمل ہونے پر ایک مضمون میں کہا کہ یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں، ڈرونز اور گولہ بارود کے ساتھ ساتھ دیگر امداد کی بھی مسلسل ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ “ہمیں روسی جنگی معیشت کو نقصان پہنچانے میں زیادہ دلیری سے کام لینا چاہیے اور ہمیں سیکڑوں اربوں کے منجمد روسی اثاثوں کو ضبط کرنے میں زیادہ دلیر ہونا چاہیے۔”

روس کے منجمد اثاثوں کو ضبط کرنے پر بات کرنے کی غرض سے برطانوی وزیرِ سرمایہ کاری ڈومینک جانسن نے گزشتہ ماہ امریکی نائب وزیرِ خزانہ والی ایڈیمو سے ملاقات کی تھی لیکن اس بات پر زور دیا کہ ایسا بین الاقوامی قانون کے مطابق کرنے کی ضرورت ہے۔

جی سیون ممالک اثاثہ جات کی ممکنہ ضبطی کا ایسے طریقے کے طور پر جائزہ لے رہے ہیں کہ یوکرین پر حملے سے ہونے والے نقصان کی روس سے ادائیگی کروائی جا سکے۔

سونک نے امریکہ پر بھی زور دیا کہ وہ یوکرین کے لیے مالی اور فوجی مدد جاری رکھے۔

انہوں نے اپنے مضمون میں لکھا، “امریکہ نے یوکرین اور یورو اٹلانٹک سکیورٹی کے لئے جو کچھ کیا ہے، ہمیں کبھی بھی اسے کم نہیں سمجھنا چاہئے۔ میں ان پر زور دیتا ہوں کہ وہ اس حمایت کو جاری رکھیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ کریں گے۔”

برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے ہفتے کے روز یوکرین کے توپ خانے کے گولہ بارود کے لیے 245 ملین پاؤنڈ (311 ملین ڈالر) کی امداد کا اعلان کیا۔

روس کے تقریباً 300 بلین ڈالر کے اثاثہ جات منجمد کر دیے تھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *