April 13, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/bodyfitnessinfo.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
People walk past an electronic screen displaying a message in memory of the victims of a shooting attack at the Crocus City Hall concert venue, in the Moscow Region, Russia, March 23, 2024. REUTERS/Maxim Shemetov

داعش نے ماسکو میں ایک تھیٹر ہال کے اندر کیے گئے حملے اور اس میں ایک سو سے زائد ہلاکتوں کے بارے میں ویڈیو جاری کی ہے۔ بظاہر یہ ویڈیو بندوق برداروں نے خود بنائی ہے جو کنسرٹ کے شرکاء پر حملہ آور ہوئے تھے۔ جس کے نتیجے میں جمعہ کے روز 133 لوگ مارے گئے جبکہ کئی زخمی ہیں۔

داعش کی طرف سے یہ ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹیلی گرام’ سے پوسٹ کی گئی ہے۔ سائٹ انٹیلیجنس گروپ کے مطابق جنگجوؤں کا یہ گروپ عام طور پر اس پلیٹ فارم کو استعمال کرتا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور سٹی ہال کی لابی میں نظر آرہے ہیں۔ جہاں پر کنسرٹ جاری تھا۔ حملہ آوروں نے متعدد برسٹ فائر کیے ہیں۔ متعدد لاشیں گریں۔ اس میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ فائر کو ہال کی عقبی سائیڈ سے شروع کیا گیا۔

سائٹ انٹیلیجنس گروپ کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ویڈیو داعش کی میڈیا ونگ کے کارکنوں نے بنائی ہے۔ گویا یہ ایک ایسی منظم کارروائی تھی جس میں حملہ آوروں کے علاوہ داعش کی میڈیا ونگ کے کارکن بھی موجود تھے۔ تاکہ ہلاکتوں کو اپنے انداز سے دنیا کے سامنے لا سکیں۔

واضح رہے داعش نے جس حملہ کی جمعہ کے روز ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس کے نتیجے میں کم از کم 133 شہری مارے گئے ہیں۔ مغربی ملکوں میں سے کسی ملک کی سرزمین پر داعش کا یہ سب سے زیادہ خوفناک اور ہلاکت خیز حملہ تھا۔

دوسری جانب کریملن کی طرف سے بتایا گیا ہے اس حملے کے بعد 11 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جن میں سے 4 کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ اس حملے کا باقاعدہ حصہ تھے۔ کریملن کے مطابق ان لوگوں کو جب گرفتار کیا گیا تو وہ یوکرین کی طرف فرار ہو رہے تھے۔ تاہم کیو نے اس معاملے میں کسی بھی طرح ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

سرکاری میڈیا کے سربراہ مارگریٹ سیمونیان نے ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے۔ جس میں دو ایسے لوگوں سے تفتیش ہوتے دکھائی گئی ہے جنہیں ہتھکڑیاں لگی ہیں۔ دونوں نے تفتیش کے دوران حملہ میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ تاہم یہ نہیں بتایا کہ اس حملے کے پیچھے کون تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *