April 13, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/bodyfitnessinfo.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

صدر جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر امریکی نیشنل آرکائیوز نے اس ہفتے تقریباً چھ ہزار صفحات پر مشتمل ای میلز امریکی ایوانِ نمائندگان کی نگرانی کمیٹی کے حوالے کردیں۔ ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر معاون نے بتایا کہ نیشنل آرکائیوز نے امریکی صدر اور ان کے بیٹے ہنٹر کے خاندان سے متعلق 20 ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ای میلز شائع کیں۔

ویب سائٹ ایکسوس کے مطابق انہوں نے 75,000 سے زیادہ دیگر پیجز کا ریکارڈ بھی ہاؤس ریپبلکنز کے حوالے کیا۔ آرکائیوز کی طرف سے بائیڈن انتظامیہ کی طرف سے زیادہ وسیع پیمانے پر رکاوٹ ڈالنے کے الزامات بھی عائد کئے گئے۔ ریپبلکنز کے ووٹ کا مرکزی محور بائیڈن کے مواحذے کے لیے تحقیقات کو باضابطہ بنانے پر رہا۔

ای میلز میں کمیٹی کی جانب سے متعدد درخواستوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ان میں وہ دستاویزات جن میں اس وقت کے نائب صدر بائیڈن کا تخلص استعمال کیا گیا تھا بھی شامل ہیں۔ بائیڈن کی 2015 میں یوکرین کی مقننہ کو دی گئی تقریر کا مسودہ اور ہنٹر بائیڈن یا اس کے کاروباری ساتھیوں کے ساتھ ان کی بات چیت بھی شامل ہے۔

ایوان نمائندگان کے ایک سینئر ڈیموکریٹک معاون نے ایکسوس کو بتایا کہ نیشنل آرکائیوز نے عوامی طور پر ہنٹر بائیڈن اور بائیڈن فیملی سے متعلق 20 ہزار صفحات پر مشتمل ای میلز جاری کیں۔ مزید 75,000 پیجز کے ریکارڈ ہاؤس جی او پی کے حوالے کیے۔ معاون نے کہا کہ نیشنل آرکائیوز نے نیک نیتی سے ریپبلکن درخواستوں کو سنبھالنے کی کوشش کی اور کہا کہ ایجنسی نے ان کا جواب دینے کے لیے اپنے عملے کو تین گنا زیادہ کردیا ہے۔

ریپبلکنز صدر کے مواخذے کے لیے ووٹ کے امکان کے بارے میں فکر مند ہیں کیونکہ تحقیقات بائیڈن کو ان کے بیٹے کے کاروباری معاملات سے جوڑنے والے کسی بھی حتمی ثبوت کو بے نقاب کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ کومر نے خود کہا ہے کہ تحقیقات کا مقصد اب بائیڈن کا مواخذہ کرنا نہیں ہے بلکہ مجرمانہ حوالہ جات تیار کرنا ہے جس پر مستقبل میں ٹرمپ کی زیرقیادت محکمہ انصاف عمل کر سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *