April 23, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/bodyfitnessinfo.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Presiding judge Joan Donoghue, third from right, reads the United Nations top court's ruling in The Hague, Netherlands, Wednesday, Jan. 31, 2024, in a case in which Ukraine accuses Russia of bankrolling rebels in 2014 and discriminating against Crimea's multiethnic community since its annexation of the region. It is the first of two decisions by the International Court of Justice linked to the decade-long conflict between Russia and Ukraine that exploded into a full-blown war nearly two years ago. (AP Photo/Peter Dejong)

بین الاقوامی عدالت انصاف پہلی بار اقوام متحدہ کی درخواست پر اسرائیل کے بارے میں ایک بڑے مدعے کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات پر مبنی فیصلہ اقوام متحدہ ارسال کرے گی۔ سماعت کا آغاز پیر کے روز سے کیا جارہا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی 2022 میں بین الاقوامی عدالت انصاف سے کہا تھا کہ ‘وہ اپنی سفارشات سے آگاہ کرے کہ فلسطین پر اسرائیلی قبضے کی قانونی حیثیت کیا پے۔’ اسرائیل اگرچہ بین الاقوامی اداروں کی آراء اور سفارشات کو کم ہی توجہ دیتا اور پروا کرتا رہا ہے، تاہم توقع کی جارہی ہے کہ اس معاملے کی سماعت اور نتائج سے اسرائیل پر آنے والے دنوں دباؤ ڈالا جا سکے گا۔ خاًص طور پر غزہ میں جب اس کی بمباری سے 28775 فلسطینی ک قتل ہو چکے ہیں اسرائیل کے خلاف عالمی برادری کا دباؤ سامنے آسکے گا۔

امکان ہے کہ بین الاقوامی عدالت انصاف کی اس سماعت اور سامنے آنے والی سفارشات کے نتیجے میں دوریاستی حل کے لیے پیش رفت پر اسرائیل کو مجبور کیا جا سکے گا۔ فلسطینی اتھارٹی کے سینئیر ذمہ دار عمر عواداللہ نے کہا ہمارا مقصد اپنے ‘ کاز ‘ کے پیش رفت کرنا ہے۔’

اسرائیل 1967 سے مغربی کنارے، اور مشرقی یروشلم پر قابض چلا آرہا ہے۔ البتہ اس نے غزہ سے خود کو 2005 میں ہٹالیا تھا۔ لیکن تب سے اس کا فوجی محاصرہ جاری رکھا ہے ۔ آج کی صورت حال کو سات اکتوبر سے مزید واضح انداز میں دیکھا جا سکتا ہے۔

اس سے قبل جولائی دو ہزار چار میں بھی اسرائیل کے بارے مین بین الاقوامی عدالت انصاف نے فلسطینی علاقے پر اسرائیلی قبضے کے بارے میں رائے دی تھی مگر اسرائیل نے اس کا کوئی اثر نہیں لیا تھا۔ عدالت انصاف نے اسرائیلی دیوار کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر منمبنی قرار دیا تھا۔ جو آج بھی موجود ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے سینئیر قانونی مشیر کلائیو بالڈوین کے مطابق تاہم اسرائیلی قبضے کی چھ دہائییوں کے دوران یہ اہم موقع ہے کہ فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے جائز یا ناجائز ہونے کے سوال پر بین الاقوامی عدالت کے جج حضرات اپنی رائے سامنے لائیں گے۔ عدالت میں حکومتوں کو موقف بھی سامنے آسکے گا، اسرائیلی قبضے سے فلسطینیوں کے لیے پیدا شدہ مصائب بھی اور انسانیت کے خلاف اسرائیلی جرائم کا بھی نوٹس لیے جانے کا موقع ہو گا۔ خصوصاً جب بین الاقوامی عدالت انصاف نے ابھی پچھلے ماہ جنوی میں ہی نسل کشی کے خلاف جنوبی افریقہ کی ایک درخواست پر اسرائیل کو حکم بھی جاری کیا ہے۔

بین الاقوامی عدالت انصاف جن سوالوں پر اپنی رائے سامنے لائے گی ان میں اسرائیلی قبضہ، ناجائز یہودی بستیوں کی تعمیر ، فلسطینیوں کی عددی اکثریت کو بدلنے کی اسرائیلی کوششیں، مقدس شہر یروشلم کی حیثیت کو تبدیل کرنے کے لیے اسرائیلی منصوبہ بندی اور فلسطینیوں کے خلاف امتیازی قوانین کی اسرائیل میں عملداری شامل ہیں۔

بین الاقوامی عدالت انصاف کے 15 جج 6 دن تک 50 ریاستوں کا موقف سننے کے علاو انسانی حقوق کی تنظیموں کا موقف بھی سماعت کریں گے۔ ان 50 ملکوں میں امریکہ، چین ، روس اور جنوبی افریقہ بھی شامل ہیں۔ اسرائیل نے اپنا موقف تحریری طور پر عدالت میں جمع کرا دیا ہے۔ پیر کے روز سے سماعت شروع ہو گی اور ہفتہ بھر جاری رہے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *