April 14, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/bodyfitnessinfo.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
عملية جراحية

یورپی ملک ’جمہوریہ چیک‘ کے ایک بڑے اور معروف ہسپتال نے ایک غیر معمولی طبی غلطی کرکے ایک نیا ہنگامہ برپا کردیا جب اس میں ڈاکٹروں نے ایک غلط مریض عورت کا آپریشن کرکے اس کا چار ماہ کا بچہ ضائع کردیا۔ آپریشن مکمل ہونے کے بعد پتہ چلا کہ آپریشن کسی اور خاتون کا کرنا تھا اورغلطی سےکسی اور مریضہ کا ہوگیا۔ واقعے پر ہسپتال نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے غفلت برتنے والے عملےاور ڈاکٹروں کےخلاف سخت کارروائی اور اس غیرمعمولی تکلیف دہ صدمے سے متاثرہ مریضہ اور اس کے خاندان سے معافی مانگی ہے۔

جس خاتون کی سرجری کی گئی وہ امید سے تھی مگر وہ ہسپتال میں معمول کےچیک اپ کے لیے آئی تھی۔

برطانوی اخبار “میٹرو” کی طرف سے شائع کردہ رپورٹ “العربیہ ڈاٹ نیٹ” کے مطالعے سے گذری ہے۔ رپورٹ کے مطابق پراگ شہر کے پولوکا ہسپتال میں ایک خاتون غلطی سے بے ہوشی کی گئی اور اس کا اسقاط حمل کردیا گیا جب اس کا معمول کا طبی معائنہ ہونا تھا۔ یہ ہسپتال جمہوریہ چیک کے دارالحکومت میں ایک بڑا ٹیچنگ ہسپتال ہے۔

صحت مند خاتون جو کہ چار ماہ کی حاملہ تھی بے ہوشی کی گئی اور اس کا بچہ دانی کا آپریشن ہوا جس سے اس کا اسقاط حمل ہو گیا، معلوم ہوا کہ اس کا آپریشن غلطی سے ہو گیا تھا۔

ہسپتال کی ترجمان ’ایوا اسٹولگڈا لیپیجیرووا‘ نے کہا کہ “ہمارے گائنی اور امراض نسواں کے سیکشن میں ایک منفی واقعہ پیش آیا۔ اب تک کے نتائج کے مطابق متعلقہ عملے کی جانب سے ضوابط کی سنگین خلاف ورزیوں اور عدم تعمیل کے نتیجے میں غلط شناخت شدہ مریضہ کے لیے سرجیکل آپریشن کیا گیا”۔

ترجمان نے مزید کہا: “ہم نے اس ناخوشگوار واقعے کے لیے مریضہ اور اس کے پورے خاندان سے اپنے گہرے افسوس اور معذرت کا اظہار کیا اور اسے یقین دلایا کہ ہم ممکنہ حد تک نقصان کی تلافی کی پوری کوشش کریں گے”۔

انہوں نے کہا “ایک تسلیم شدہ تدریسی ہسپتال کے طور پر ہم نے واضح طور پر طے شدہ اصول اور طریقہ کار قائم کیے ہیں جن پر ہمارے طبی عملے کو بغیر کسی استثنا کے عمل کرنا چاہیے۔ اگر طے شدہ کام کے طریقہ کار کی خلاف ورزی کی گئی تو اہلکاروں سے چارج کیا جائے گا‘‘۔

معلومات کے مطابق دونوں خواتین ایشیائی نژاد غیر ملکی شہری تھیں اور چیک زبان اچھی نہیں بولتی تھیں۔

ایک ماہر امراض چشم اور چیک میڈیکل چیمبر کے نائب صدر جان بریڈا نے کہا کہ قصور صرف ڈاکٹروں کا نہیں بلکہ اس میں ملوث تمام عملے کا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ عورت آپریٹنگ روم میں پہنچ گئی تھی”۔

بریڈا نے کہا کہ “اگر آپ چیک یا ایک معروف بین الاقوامی زبان نہیں بول سکتے تو یہ ایک کردار ادا کر سکتا ہے، مگر غلطی کیوں ہوئی ہے‘‘۔

انہوں نے کہا “اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ڈاکٹروں کو اس معاملے سے نہیں نمٹنا چاہیے، بلکہ یہ کہ غلط فہمی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک چیک بولنے والی مریضہ اس حقیقت کی مخالفت کرے گی کہ وہ ایک ایسے طریقہ کار سے گزرے گی جسے وہ سمجھ نہیں پاتی”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *